Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ کی وضاحت
- Fatwa no.
- 1033-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک میں ہے کہ اعلانیہ گناہ کی تو بہ اعلانیہ ہوتی ہے، تو میں نے تو بہت سے لوگوں کے سامنے گناہ کیسے ہوں گے جیسے گھر والے، رشتہ دار ، دوست۔ میں سب کے سامنے تو بہ نہیں کر پاؤں گا اور اگر کسی کے سامنے تو بہ کروں، تو کیا مجھے سب گناہوں کی الگ الگ تو بہ کرنی ہوگی یا سب کی ایک ساتھ ؟ مثلا یوں کہ میں نے سب گناہوں سے توبہ کی ؟
Answer (beginning)
تو بہ کی شرائط یعنی گناہ و جرم کا اعتراف ، اس پر شرمندہ ہونا اور آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ و عزم ہو نا، نیز ا گر وہ گناہ قابل تلافی ہو ، تو اس کی تلافی کر نا مثلا قضا نماز روزے ادا کرنا، کسی کی حق تلفی کی ہے ، تو اس کا حق ادا کر نا یا اس سے معاف کروانا، تو بہ کے لیے یہ سب کرناضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اعلانیہ گناہ کی تو بہ اعلانیہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اعلانیہ تو بہ کا مطلب یہ ہے کہ جن افراد کے سامنے گناہ کیا تھا، ان کے سامنے تو بہ کرے،اگر ایسا ممکن نہیں تو انہیں اپنی تو بہ کے متعلق بتادے یا اگر وہ بہت زیادہ تعداد میں ہوں اور سب کو اپنی تو بہ کی اطلاع کرنا، ممکن نہ ہو ، تو انہی کی مثل کثیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.