Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا داماد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

Fatwa no.
1029-WAT

Question

کیا سسر اپنے داماد کو اپنی زکاۃ دے سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

دامادا گر مستحق زکاۃ ( یعنی اس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد 52.5 تولہ چاندی یا اتنی مالیت کا کسی بھی قسم کا مال نہیں اور یہ شخص سید یا ہاشمی بھی نہیں) ہے تو سر اسے اپنی زکاۃ دے سکتا ہے۔ ردالمحتار میں ہے "ويجوز دفعها لزوجة ابيه وابنه وزوج ابنته " ترجمہ: اور زکاۃ دینا جائز ہے، اپنے باپ کی بیوی کو اپنے بیٹے کی بیوی کو اور اپنی بیٹی کے شوہر کو۔ (ردالمحتارمع الدر المختار، کتاب الزكاة،ج03،ص344،دارالمعرفة،بيروت) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الا الملت Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.