Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا اپنی نواسی کے بچوں کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

Fatwa no.
1028-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اپنی نواسی کے بچوں کو زکوۃ دے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اپنی اصل کو (جن کی اولاد میں یہ ہے ، خواہ کتنی ہی دور کا واسطہ ہو) اور اپنی فرع کو (جو اس کی اولاد میں ہیں ، خواہ کتنے ہی دور کا واسطہ ہو، انہیں ) اپنی زکاۃ نہیں دے سکتے۔ لہذا بیٹا، بیٹی ، پوتا پوتی، نواسا نواسی اور ان کی اولاد، در اولاد کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔ بہار شریعت میں ہے " اپنی اصل یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانانانی و غیر ہم جن کی اولاد میں یہ ہے اور اپنی اولاد بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی و غیر ہم کو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ یو ہیں صدقہ فطر ونذر و کفارہ بھی انھیں نہیں دے سکتا۔ رہا صدقہ نفل وہ دے سکتا ہے بلکہ بہتر ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.