Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اعتکاف چھورنا
- Fatwa no.
- 1015-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کر رہا ہو اور طبیعت کے خراب ہونے کے سبب مسجد سے نکل جائے تو اس پر کیا کفارہ لازم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے مسجد سے نکلا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، اس پر ایک دن کے اعتکاف کی قضا لازم ہے۔ اور کفارہ کوئی نہیں ہے۔ اعتکاف کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ : یکم شوال اور ایام تشریق یعنی 10 سے 13 ذوالحجہ کے علاوہ سال کے کسی بھی دن، اور چاہے تور مضان کے بقیہ ایام میں سے کسی دن، مغرب کا وقت شروع ہونے سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور اعتکاف کی قضا کی نیت سے اگلے دن کی مغرب تک مسجد میں ٹھہرے، نیز اس دن کا روزہ بھی رکھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.