Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پہلایاآخری قعدہ بھول کھڑاہوجائے تواس کی تفصیل
- Fatwa no.
- 1010-WAT
Question
(دعوت اسلامی) (الف) اگر کوئی شخص پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ (ب) اور اگر کوئی آخری قعدہ بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے۔؟
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص تین یا چار رکعت والی نماز میں دوسری رکعت پر نہ بیٹھے اور بھول کر سیدھا کھڑا ہو جائے تو اب اس کو کم قعدہ کی طرف لوٹنا جائز نہیں بلکہ نماز جاری رکھے اور آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کر دے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی۔ اور اگر پورا سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو اب اگر بیٹھنے کے قریب ہے کہ نیچے کا آدھا بدن ابھی سیدھانہ ہونے پایا جب تو بالاتفاق لوٹ آئے اور زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس صورت میں اس پر سجدہ سہو نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.