Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں باپ کاایک بیٹے کومال زیادہ دینا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 1009-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ماں باپ اگر اپنے دو بیٹوں میں سے ایک کو زیادہ زیادہ دیں اور یوں کہیں کہ اس بیٹے نے ہمیں زیادہ رکھا ہے، تو کیا یہ جائز ہے ؟
Answer (beginning)
اگر ایک بیٹے کو اس لیے زیادہ دے رہے ہیں کہ اس نے زیادہ خدمت کی، ہمیں اپنے پاس رکھا، لیکن دوسرے بیٹے کو محروم کرنے کی نیت نہیں ہے تو خد متگار بیٹے کو زیادہ دینے میں حرج نہیں۔ زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ دینے کے مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی میں ہر شخص اپنے مال میں تصرف کرنے کا خود مختار ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں کسی دوسرے کا اس کے مال کے ساتھ حق متعلق نہیں ہو تا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.