Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آئل کے ڈرم پرنقلی اسٹیکرلگاکرآئل بیچنا
- Fatwa no.
- 1003-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آئل کے خالی ڈرم پر نقلی (duplicate) اسٹیکر یا اس کی فوٹو کاپی لگا کر آئل بیچنا کیسا ہے جبکہ جس کمپنی کا اسٹکر لگایا جارہا ہے اس کی طرف سے یوں کرنے کی اجازت نہیں ہے اس سے کمپنی کا نام بھی خراب ہو تا ہے اور اس کی مارکیٹ میں ویلیو گرنے کی وجہ سے اسے نقصان ہوتا ہے ؟ اور جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہو کہ وہ ہم سے کسی کمپنی کے بغیر اس کی اجازت کے اسٹیکر پرنٹ کروا کر یوں دو نمبر کام کرے گا تو اسے اسٹیکر پرنٹ کر کے دینا کیسا؟ نیز جن لوگوں کو یہ بتا کر بیچا کہ یہ اصل نہیں بلکہ نقلی (duplicate) ہے تو کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں خالی ڈرم پر نقلی اسٹیکر زلگا کر ان میں آئل بھر کے بیچنا متعدد وجوہ سے ناجائز ہے: (1) کمپنیز کی اجازت ووکالت کے بغیر ان کے نام و مونو گرام کے اسٹیکر زلگانا، ناجائز ہے کہ یہ قانو ناجرم ہے اور ہر وہ کام جو قانوناً جرم ہو اور شریعت سے نہ ٹکراتا ہو تو اس کی پاسداری کرنالازم ہوتا ہے کہ اس کا خلاف کرنے کی صورت میں خود کو سز اوذلت کے لیے پیش کرنا پایا جائے گا جو کہ جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.