Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فطرہ کسی غریب کے اکاؤنٹ میں بھیج سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 1000-WAT
Question
صدقہ فطر کسی غریب کے اکاؤنٹ میں بھیج سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
اگر وہ غریب شرعی فقیر اور غیر ہاشمی ہے تو وہ صدقہ فطر کا مستحق ہے اور صدقہ فطر اس کے اکاونٹ میں بھی بھیج سکتے ہیں۔ نوٹ : شرعی فقیر سے مراد وہ شخص ہے: جس کے پاس حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی قیمت برابر حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد کوئی دوسر امال (سونا، روپیہ پیسہ، پرائز بانڈ مالِ تجارت، یا کسی قسم کا سامان ) نہ ہو۔ اور ہاشمی سے مُراد : حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس وحارث بن عبد المطلب کی اولا دیں ہیں۔ نیز یاد رہے عباسی، اعوان اور علوی کا شمار بھی بنو ہاشم میں سے ہوتا ہے، لہذا انہیں بھی زکوۃ نہیں دے سکتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.