Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نصاب کے برابر صدقہ وخیرات جمع ہوا تو زکوۃ کا حکم؟
- Fatwa no.
- 999-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بیوہ ہے جس کی کوئی اولاد بھی نہیں اور نہ ہی کوئی ذریعہ آمدن ہے لوگوں کے صدقہ و خیرات پر ہی گزارا کرتی ہے اب اگر لوگ اسے صدقہ و خیرات دیں اور وہ 50 یا 60 ہزار اس کے پاس جمع ہو جائے تو کیا اس پر زکوۃ فرض ہو گی
Answer (beginning)
اگر وہ بیوہ شرعی فقیر ہے یعنی اس کے پاس حاجت اصلیہ و قرض کے علاوہ کوئی ایسی چیز یامال یاسونا چاندی کرنسی وغیرہ موجود نہیں جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو وہ زکوۃ و فطرہ لے سکتی ہے جبکہ سیدہ، ہاشمیہ بھی نہ ہو ، اور تب تک لے سکتی ہے ، جب تک شرعی فقیر ہے ، اگر اس کو کسی نے اتنا مال دے دیا کہ اب وہ (اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ) شرعی فقیر نہیں رہی تو مزید نہیں لے سکتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.