Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سوتیلے والد کو اپنی زکوۃ دے سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 998-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سوتیلے والد ( یعنی والدہ کی دوسری شادی ہوئی ہے، تو ان کے شوہر) کو اپنی زکاۃ دے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
سوتیلے والد کو اپنی زکاۃ دی جاسکتی ہے، بشر طیکہ وہ شرعی فقیر اور غیر ہاشمی ہو۔ نوٹ: شرعی فقیر سے مراد وہ شخص ہے: جس کے پاس حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی قیمت برابر حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد کوئی دوسر امال (سونا، روپیہ پیسہ، پرائز بانڈ مالِ تجارت، یاکسی قسم کا سامان ) نہ ہو۔ اور ہاشمی سے مراد : حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس وحارث بن عبد المطلب کی اولا دیں ہیں۔ نیز یاد رہے !عباسی، اعوان اور علوی کا شمار بھی بنو ہاشم میں سے ہوتا ہے ،لہذا انہیں بھی زکاۃ نہیں دے سکتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.