Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازکاوقت شروع ہونے سے پہلے اذان دینا

Fatwa no.
996-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اذان وقت سے پہلے دے سکتے ہیں، مثلا عشا کا وقت 9:30 پر شروع ہو تا ہو ، تو کیا 9:25 پر اذان دے سکتے ہیں بالخصوص رمضان المبارک کے مہینے میں ؟

Answer (beginning)

نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دینا مجیب ابو حذيفه محمد شفیق عطاری فتوی نمبر: 996-WAT تاريخ اجراء : 21 محرم الحرام 1444ھ / 20 اگست 2022ء سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اذان وقت سے پہلے دے سکتے ہیں، مثلا عشا کا وقت 9:30 پر شروع ہو تا ہو ، تو کیا 9:25 پر اذان دے سکتے ہیں بالخصوص رمضان المبارک کے مہینے میں ؟ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ابنِ المَلِكِ الوَهَّابِ اللَّهُم هِدَايَةَ الْحَقَّ وَالصَّوَابِ نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان نہیں دی جاسکتی، اگر دی گئی، تو اذان نہیں ہو گی۔ یہاں تک کہ اگر اذان کے دوران وقت شروع ہوا، تب بھی اذان نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.