Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لوطی کے مرنے کے بعداس کی قبرکی منتقلی
- Fatwa no.
- 991-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا لواطت یعنی مرد کے ساتھ غلط کام کرنے والے مرد کی لاش مرنے کے بعد قوم لوط کے قبرستان میں ڈال دی جاتی ہے؟
Answer (beginning)
لواطت یعنی مرد کا مر د کے ساتھ غلط کام کرنا، ناجائز و حرام اور جہنم میں جانے کا سبب ہے اور حدیث پاک کے مطابق ایسا کرنے والا معلون ( لعنتی شخص) ہے اور اگر تو بہ کیے بغیر مر گیا، تو اسے مرنے کے بعد قوم لوط کے قبرستان میں منتقل کر دیا جائے گا اور قیامت کے دن اس کا انجام قوم لوط کے ساتھ ہو گا۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ملعون مَن عَمِلَ بِعَمَلِ قومِ لوط “ یعنی جو قوم لوط کا کام کرے ، وہ ملعون ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.