Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح اگرچھوٹ جائے توکیاکرے؟
- Fatwa no.
- 990-WAT
Question
اگر تراویح چھوٹ گئی ، تو کیا کرنا چاہیے ؟
Answer (beginning)
اولا یہ یادر ہے کہ رمضان کی ہر رات میں تراویح کی مکمل ہیں رکعات پڑھنا، ہر مکلف یعنی عاقل بالغ مرد و عورت دونوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے اور اس کا وقت نماز عشا کے فرضوں کے بعد سے فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک ہے۔ رہا یہ سوال کہ اگر کسی کی تراویح چھوٹ گئی تو وہ کیا کرے گا تو اس کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ: چھوٹنے سے اگر یہ مراد ہے کہ جماعت چھوٹ گئی تو اس صورت میں اس کے لیے حکم ہے کہ وہ تنہا ادا کرے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ قضا ہو گئی یعنی تراویح نہیں پڑھی کہ فجر کا وقت شروع ہو گیا، تو اب اس کی قضا نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.