Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تہجدوقت کے اندرشروع کی اوروقت ختم ہونے پرسلام پھیرا

Fatwa no.
988-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے تہجد کی نماز وقت کے اندر شروع کر دی، لیکن اس کا سلام فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد پھیر ا، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

تہجد کا وقت بعد نماز عشاء سے صبح صادق ہونے تک ہے ، اگر کسی نے وقت میں نماز تہجد شروع کی ، لیکن سلام جب پھیرا، تو فجر کا وقت شروع ہو چکا تھا، تب بھی اس کی نماز تہجد ادا ہو جائے گی۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے : " اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پیشتر نماز نفل پڑھ رہا تھا، ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو دوسری بھی پڑھ کر پوری کرلے اور یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.