Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا گروی رکھے ہوئے مال کی زکاۃ لازم ہوگی؟

Fatwa no.
987-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سونا گروی رکھا تھا، دو سال گزرنے کے بعد واپس لیا، تو اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

رہن (گروی) رکھے ہوئے زیورات کی زکوۃ نہ تو راہن ( گروی رکھوانے والے) کے ذمہ واجب ہوتی ہے اور نہ ہی مر تہن (جس کے پاس گروی رکھا گیا، اس) کے ذمہ پر ، کیوں کہ زکوۃ کے وجوب کے لیے مالِ زکوۃ کی ملکیت اور اس مال پر قبضہ دونوں حاصل ہونا شرط ہے ، جب کہ راہن (گروی رکھوانے والے) کو گروی رکھے ہوئے زیورات پر قبضہ اور تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا اور مرتبین (جس کے پاس گروی رکھا ہو ) کو گروی کے زیورات کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی، لہذا جب تک سونا گروی رکھا ہوا تھا کسی پر بھی اس کی زکوۃ لازم نہیں، البتہ واپس ملنے کے بعد زکوۃ کی شرائط پائی جانے کی صورت میں زکوۃ کے احکام لاگو ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.