Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تہجدپڑھنے والاوترکب اداکرے؟

Fatwa no.
985-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کیا تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے عشاء کے وتر چھوڑنے ضروری ہوتے ہیں ؟ ہماری اصلاح فرما دیں۔

Answer (beginning)

تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے عشاء کے وتر چھوڑنا اور پھر انہیں تہجد کے وقت پڑھناضروری اور لازمی نہیں۔ ہاں البتہ ! اگر ایک شخص کو یقین ہو کہ فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تہجد کے لیے اٹھ پائے گا، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ عشاء کے ساتھ وتر نہ پڑھے اور جب تہجد کے لیے اٹھے تو اس وقت ساتھ وتر بھی ادا کر لے ، لیکن اگر کسی کو اٹھنے یانہ اٹھنے میں شک ہو اور یقینی کیفیت نہ ہو تو اس کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ عشا کے ساتھ ہی وتر پڑھ کر سوئے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.