Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ کی قسم کاحکم

Fatwa no.
972-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نابالغ نے اللہ کی قسم کھائی کہ بالغ ہو کر فلاں کام کروں گا، اب وہ بالغ ہو گیا لیکن وہ کام نہیں کرتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

بیان کر دہ صورت میں جب اس نے حالت نابالغی میں قسم کھائی تو وہ قسم منعقد ہی نہ ہوئی اور اب اس کام کے نہ کرنے پر کفارہ بھی لازم نہیں ہو گا۔ کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئے چند شر طیں ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو کفارہ نہیں اور ان میں سے ایک شرط بالغ ہونا بھی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ”منها ان يكون عاقلاً بالغاً فلا يصح يمين الصبي والمجنون وان كان عاقلاً لانها تصرف ايجاب و هما ليس من اهل الايجاب “ ترجمہ : قسم درست ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط قسم کھانے والے کا عاقل بالغ ہونا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.