Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضووغسل میں جسم ملنے کاحکم

Fatwa no.
971-WAT

Question

(دعوت اسلامی) وضو اور غسل میں جسم پر پانی بہانا ہی کافی ہے یا ہا تھ پاؤں کے بالوں کو بھی ہلانا ہو گا؟

Answer (beginning)

غسل میں تمام ظاہری بدن پر یوں پانی بہانا فرض ہے کہ ہر ہر حصہ پر پانی بہہ جائے۔ اور جب تمام ظاہر ی بدن پر پانی بہہ گیا ہے تو احناف کے نزدیک الگ سے بدن کو ملنا ضروری نہیں، ہاں مستحب ہے ، خاص طور پر سردیوں میں۔ اور بہتر یہ ہے کہ غسل وغیرہ سے قبل خصوصا سر د موسم میں جسم پر پانی چپڑ لیا جائے تاکہ کوئی بال برابر بھی خشک نہ رہ جائے۔ البحر الرائق میں ہے " لا يفترض دلک بدنه في الغسل "ترجمہ : غسل میں اپنے بدن کو ملنا فرض نہیں ہے۔(البحر الرائق،جلد1،صفحہ 50، دارالکتاب الاسلامی) بنا یہ شرح ہدایہ میں ہے " وقال اصحابنا وعامة الفقهاء: عليه إجراء الماء عليه وليس عليه دلكه بہ .

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.