Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دعائے قنوت بھول کر رکوع کیا پھر واپس آکر پڑھی

Fatwa no.
968-WAT
Issued
12 محرم الحرام 24144 / 12 اگست 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص نماز وتر کی تیسری رکعت میں تکبیر قنوت اور دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے اور پھر اسے رکوع میں یاد آئے تو واپس قیام کی طرف لوٹ آئے اور تکبیر کہہ کر دعائے قنوت پڑھے اور دوبارہ رکوع کرے تو کیا اس کی نماز واجب الاعادہ ہوگی ؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص نماز وتر کی تیسری رکعت میں تکبیر قنوت اور دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو اس کے لیے حکم ہے کہ وہ قنوت پڑھنے کے لیے قیام کی طرف نہ لوٹے بلکہ قنوت پڑھے بغیر نماز مکمل کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔ البتہ !اگر ایسا شخص قنوت پڑھنے کے لیے قیام کی طرف لوٹ آیا اس نے دوبارہ قنوت پڑھی اور رکوع کیا تو اصح قول کے مطابق وہ گناہ گار ہو گا اور اس پر نماز کا اعادہ واجب ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.