Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قسطوں پر لی ہوئی چیز پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

Fatwa no.
963-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص فلیٹ قسطوں پر لے اور ابھی تیک قسطیں مکمل ادا نہ ہوئی ہوں، تو کیا اس فلیٹ کی زکوۃ ادا کرنی ہو گی اور کیسے نکالنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

اگر کسی شخص نے فلیٹ بیچنے کی نیت سے خریدا، تو اس کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے اور حکم یہ ہے کہ جو قسطیں باقی ہیں وہ بیچنے اس پر قرض ہیں اور زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ سال پورا ہونے کے دن جتنی مالیت کا فلیٹ ہے اس میں سے قرض (فلیٹ کی بقیہ اقساط یا اس کے علاوہ کوئی قرض ہے، تو اس کو مائنس کرنے کے بعد فلیٹ کی بقیہ رقم خود یا دیگر اموال زکوۃ سے مل کر ز کوۃ کے نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) کو پانچ جائے اور اس کے علاوہ اس پر زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جاتی ہوں، تو اس کی زکوۃ ادا کر نالازم ہو گا۔ اور اگر فلیٹ بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا، تو اس فلیٹ کی زکوۃ فرض نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.