Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تراویح بیٹھ کراداکرنا

Answered by
عبدالرب شاکرعطاری مدنی
Fatwa no.
962-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا میں تراویح بیٹھ کر پڑھ سکتی ہوں، ویسے تو ڈا کٹر نے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا کہا، میں فرض نماز پھر بھی بغیر کرسی کے ہی پڑھتی ہوں، تروایح طویل ہو جاتی ہیں ، اس میں پھر تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں تراویح اگر کھڑے ہو کر پڑھنے میں تکلیف ہے یا مرض کے بڑھ جانے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا صحیح اندیشہ سے تو بیٹھ کر پڑھنے میں حرج نہیں اور اگر کھڑے ہو کر پڑھنے میں کوئی عذر نہیں تو اس صورت میں بیٹھ کر نماز تراویح پڑھنے سے نماز تو ادا ہو جائے گی، لیکن یہ مکروہ تنزیہی (یعنی نا پسندیدہ عمل ہے اور بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملے گا۔ جبکہ بعض علماء کے نزدیک تو بیٹھ کر تراویح کی نماز ادا کرنے سے ادا ہی نہیں ہو گی۔ لہذا اس معاملے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ کوئی عذر نہ ہو تو کھڑے ہو کر ہی تراویح کی نماز ادا کی جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.