Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مستعمل پانی سے استنجا ء کرنا
- Fatwa no.
- 955-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا مستعمل پانی سے استنجاء کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں! مستعمل پانی سے استنجاء کر سکتے ہیں۔ کیونکہ مستعمل پانی اگر چہ وضو اور غسل کے قابل نہیں رہتا، مگر یہ ناپاک نہیں ہو تا، جب تک اس میں کوئی نجاست نہ جائے، اس لئے اگر اس میں کوئی نجاست نہیں گئی تو اس سے استنجاء کر سکتے ہیں اور اس سے استنجاء کرنے سے پاکی حاصل ہو جائے گی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” یجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتھابہ ۔۔۔ومن المائعات الماء المستعمل “ ترجمہ : پانی کے ساتھ نجاست دور کرنا جائز ہے ، اسی طرح ہر مائع چیز جس سے نجاست زائل کرنا ممکن ہو، اس سے نجاست دور کرنا جائز ہے ، اور مائع چیزوں میں سے ماء مستعمل بھی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.