Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازقضاکب ہوتی ہے ؟

Fatwa no.
952-WAT

Question

نماز قضا کب ہوتی ہے ؟

Answer (beginning)

نماز ادا کیے بغیر اس نماز کا وقت نکل جائے، تو وہ نماز قضا کہلاتی ہے، محض جماعت چھوٹ جانے سے نماز قضا نہیں ہوتی، حتی کہ اگر کسی نے نماز فجر، جمعہ و عیدین کے علاوہ نمازوں کی تکبیر تحریمہ وقت کے اندر کہہ لی، اگر چہ مکروہ وقت میں ہو ( جیسے عصر کے بعد کے مکر وہ وقت میں اسی دن کی عصر ) تو اس کی یہ نماز میں اداری کہلائیں گی۔ البتہ انجر ، جمعہ و عیدین کی نمازوں کا وقت کے اندر سلام پھیر لینا بھی ضروری ہے ، ورنہ یہ نمازیں قضا کہلائیں گی۔ نوٹ: یہ تو قضا کے متعلق جواب تھا، اس کے ضمن میں یہ مسئلہ بھی یادر ہے کہ اگر جماعت واجب ہو، تو بلا عذر شرعی اسے چھوڑنا، جائز نہیں، چھوڑنے والا گناہ گار ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.