Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج یا عمرہ میں دم کب تک ادا کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
945-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج کرنے میں اگر دم لازم آئے تو کتنے وقت میں اسے ادا کر سکتے ہیں نیز دم میں بکر ادینا لازم ہے یا بکری بھی دے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اگر کسی وجہ سے دم لازم آئے تو اس کی ادائیگی کے لیے دم کے جانور کا حرم مکہ میں ذبح ہوناضروری ہے ، البتہ ! وقت کی کوئی قید نہیں، فوری ادا نہ کر سکیں تو بعد میں بھی ادا کر سکتے ہیں لیکن جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی اور موت کا کوئی پتا نہیں۔ اور دم میں بکر ایا بکری، دونوں میں سے کوئی بھی دے سکتے ہیں، البتہ یہ خیال رہے کہ ! جو شرائط قربانی کے جانور میں پائی جانا ضروری ہیں، وہی دم والے جانور میں بھی ضروری ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.