Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کے کفربولنے کے بعداسے طلاق دینا
- Fatwa no.
- 943-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر شادی شدہ عورت صریح کفر بول دے اور پھر فورا تو بہ تجدید ایمان بھی کرے لیکن تجدید نکاح ایک سال بعد کرے۔ اس صورت میں اگر شوہر تجدید ایمان کے بعد اور تجدید نکاح سے پہلے عورت کو طلاق دے یا طلاق کو کسی چیز پر معلق کرے تو طلاق یا اس کی تعلیق درست ہو گی یا نہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر تجدید نکاح سے پہلے طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسی طرح اگر تجدید نکاح سے پہلے طلاق کو معلق کر دے تو یہ تعلیق بھی درست ہو گی۔ کیونکہ مفتی بہ قول کے مطابق عورت کے ارتداد سے نکاح فسخ نہیں ہو تا، نکاح باقی رہتا ہے اگر چہ تجدید نکاح سے پہلے صحبت جائز نہیں ہوتی۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر عورت معاذ اللہ اُن میں کی ہو گئی اور مر دسنی رہا تو نکاح تو فسخ نہ ہو ا۔ علی مافی النوادر وحققنا الافتاء به في هذا الزمان في فتاونا (نوادر کی روایت کے مطابق اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے کہ اس زمانہ میں فتوی یہی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.