Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قسم اٹھاکربھول گیاتوکفارے کاحکم

Fatwa no.
940-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص کسی کام کو کرنے کی قسم اٹھالے اور بعد میں وہ کام کرنا بھول جائے تو کیا اس پر قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہو گا ؟

Answer (beginning)

قسم توڑنا اختیار سے ہو یا دوسرے کے مجبور کرنے سے قصد ا ہو یا بھول چوک سے ہر صورت میں کفارہ ہے بلکہ اگر بیہوشی یا جنون میں قسم توڑتا ہوا جب بھی کفارہ واجب ہے جب کہ ہوش میں قسم کھائی ہو۔ تبیین الحقائق میں ہے ”تجب الكفارة ولو كان حلف مكرها أوناسيا أو حنث مكرها أو ناسیا۔۔۔ وكذالوفعله وهو مغمى عليه أو مجنون لتحقق الشرط حقيقة ترجمہ : مجبور ہو کر قسم اٹھائی ہو یا بھول کر یونہی مجبور ہو کر قسم توڑی ہو یا بھول کر ، ہر صورت میں کفارہ لازم ہو گا، اسی طرح بے ہوشی یا جنون کی حالت میں قسم توڑی تو بھی کفارہ لازم ہو گا شرط کے حقیقہ پائے جانے کی وجہ سے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.