Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کی رقم سے کپڑے خرید کر دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 938-WAT
Question
اگر کسی خاتون کے پاس سونے کا نصاب تو ہو مگر ز کوۃ کی ادائیگی کے لئے فی الوقت نقدر قم کی وسعت نہ ہو، تو کیا وہ اپنے استعمال شدہ ملبوسات کی بازار سے قیمت لگوا کر زکوۃ کی واجب الادار قسم کے مطابق ان ملبوسات کو نقد رقم کے متبادل کے طور پر مستحقین زکوۃ کو دے سکتی ہے؟
Answer (beginning)
جی ہاں، اگر آپ رقم کی بجائے کپڑے زکوۃ کے طور پر فقیروں کو دیں تو ، ان کپڑوں کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ فتاوی رضویہ میں ہے "ز کوۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوۃ مالک کر دینا جائز و کافی ہے، زکوۃ ادا ہو جائیگی، جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجر اہو گی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 69، 70، رضا فاونڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الا اهلب Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.