Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چیک کے ذریعے نمازوں کافدیہ دینا
- Fatwa no.
- 936-WAT
- Issued
- 22 جمادی الثانی 1445ھ / 05 جنوری 2024ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) میت کے فدیہ کا حیلہ کرتے وقت ہم شرعی فقیر کو چیک دیکر حیلہ کروا سکتے ہیں یا کیش دیکر ہی حیلہ کروانا ہو گا؟ اور حیلہ کروانے کے بعد یہ رقم ہم مدرسے میں لگا سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب عطا فرمادیں۔
Answer (beginning)
چیک کے ذریعے حیلہ نہیں ہو سکتا، کہ اس طرح محض رسید دینے سے نہ زکوۃ ادا ہوتی، نہ فدیہ ، کیونکہ اس صورت میں شرعی فقیر کار تم پر قبضہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف رقم کی رسید اس کے حوالے کی جاتی ہے، جبکہ زکوۃ اور فدیہ کی ادا ئیگی کیلئے فقیر کو رقم کا مالک بنانا، اور رقم اس کے قبضہ میں دینا شرط ہے۔ ہاں البتہ درست طریقے سے حیلہ کروانے کے بعد یہ رقم مدرسے میں بھی لگا سکتے ہیں۔ امیر اہلسنت مولانا الیاس عطار قادری صاحب دامت برکا تہم العالیہ اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنی کتاب " چندے کے بارے میں سوال جواب " میں تحریر فرماتے ہیں: ” چیک کے ذریعے حیلہ نہیں ہو سکتا،۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.