Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہم تجھے بھول گئے تھے تو ہمیں نہ بھولنا کہنا کیسا؟
- Answered by
- ابواحمد محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 926-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام صاحب دعا میں کہتے ہیں کہ " اے خدا! ہم تجھے بھول گئے تھے تو ہمیں نہ بھولنا " ان کی مراد معلوم نہیں، اب ان کے متعلق کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
سوال میں مذکور شعر پڑھنا درست نہیں ہے۔ پڑھنے والے اس سے توبہ کریں۔ چنانچہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " اس شعر کا پڑھنا ہر گز ہر گز جائز نہیں، بھول جانے کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف کرنا کفر ہے کہ اس کو جہل لازم ہے اور غفلت بھی، اللہ عزوجل اس سے منزہ ہے لیکن اردو میں بھول جانے کے معنی مہربانی نہ کرنا بھی آتا ہے اور مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا لازم ، اس لئے اس کے کلام کو اچھے محمل پر محمول کرناضروری ہے اس لئے بطور حسن ظن یہی کہیں کہ شاعر کی مراد یہی ہے مگر جب اس کا معنی حقیقی کفر ہے تو اچھے معنی مراد لے کر بھی اللہ تعالی پر اس کا اطلاق درست نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.