Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پیدل سفرکرکے کرائے کے اخراجات لینا
- Fatwa no.
- 925-WAT
- Issued
- 28 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 28 جولائی 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید ایک کمپنی میں کام کرتا ہے اس کو سفری اخراجات کے پیسے ملتے ہیں مثلا اگر موٹر سائیکل پہ جائے تو پیٹرول کے حساب سے پیسے ملتے ہیں اور اگر آٹو پہ جائے تو آٹو کے کرائے کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔ تو اب اگر زید کچھ سفر پیدل کرے اور آٹو کے کرائے کے پیسے لے لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سوال سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ پیسے بطور الاونس فکس نہیں ہیں کہ سفر جیسے مرضی کرے پیسے ضرور ملیں گے بلکہ کرائے والی چیز پر سفر کرنے پر ، اس چیز کے مطابق کرائے کے پیسے ملیں گے ، اگر واقعی ایسا ہی ہے تو زید کا پیدل سفر کر کے آٹو کے کرائے کے پیسے لینا جائز نہیں ہے اور اگر کبھی اس طرح جیسے لئے ہیں تو تو بہ کے ساتھ ساتھ کمپنی کو پیسے واپس بھی کرنے ہوں گے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.