Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رات میں عقیقہ کرنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
915-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رات میں عقیقہ ہو سکتا ہے کہ نہیں؟

Answer (beginning)

رات میں عقیقہ ہونے سے مراد اگر جانور ذبح کرنا ہے کہ عقیقہ کا جانور رات میں ذبح کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ تو شرعی اعتبار سے اگر روشنی و غیر ہ کا اچھا انتظام کر لیں کہ ذبح میں کسی قسم کی غلطی کا اندیشہ نہ رہے ، تورات میں جانور ذبح کرنا خواہ عقیقہ کا ہو یا قربانی کا بلا کراہت جائز ہے، البتہ اگر روشنی کا اچھا انتظام نہ ہو اور اندھیرے کی وجہ سے ذبح میں غلطی کا اندیشہ ہو تو پھر رات میں جانور ذبح کرنا مکروہ ہے لیکن اس کے باوجود اگر شرعی ذی پایا گیا، جتنی رگیں کٹناضروری ہیں ، وہ کٹ گئیں تو عقیقہ پھر بھی ادا ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.