Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چوری کامال بیچنے والے سے خریداری کرنا

Fatwa no.
913-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص دیگر مال کے ساتھ چوری کا مال بھی بیچتا ہے تو اس سے مال خرید نا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی دوکان سے خریداری نہ کی جائے اور اگر کسی چیز کے متعلق معلوم ہے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا خرید نا حرام و گناہ ہے بلکہ اگر یقینی طور پر معلوم نہ ہو لیکن کوئی واضح قرینہ ہو جس کی بنیاد پر یہ گمان قائم ہو کہ یہ چوری کامال ہے تب بھی خرید نا، جائز نہیں کیونکہ بیچنے والا چوری کے مال کا مالک ہی نہیں ہوا۔ ہاں اگر معلوم نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا قرینہ ہو تو خرید نا، جائز ہے لیکن اگر خریدنے کے بعد معلوم ہو گیا کہ یہ چوری کا ہے تو اب اس کا استعمال جائز نہیں بلکہ مالک کو واپس کیا جائے اور اگر وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو اور ان کا بھی پتا نہ چل سکے تو فقراء کو دیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.