Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازپنجگانہ امت محمدیہ(علی صاحبھاالصلوۃ والسلام) کی خصوصیت
- Fatwa no.
- 908-WAT
Question
جس طرح ہم پر پنج وقتہ نماز فرض ہیں، کیا اسی طرح پچھلی امتوں پر بھی نماز فرض تھی اور تھی تو کتنے وقت کی نماز فرض تھی؟
Answer (beginning)
اللہ تعالی کے فضل و کرم سے نماز پنجگانہ امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام) کی خصوصیت ہے۔ پہلے کسی امت کو یہ سعادت نہیں ملی۔ بنی اسرائیل پر دو وقت کی نمازیں فرض تھیں، دور کعتیں صبح اور دور کعتیں شام۔ بقیہ امتوں کا حال خدا جانے لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں ان میں کسی کو نہ ملیں۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: "نماز پنجگانہ اللہ عز وجل کی وہ نعمت عظمی ہے کہ اس نے اپنے کرم عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی امت کو نہ ملی، بنی اسرائیل پر دو (۲) ہی وقت کی فرض تھی وہ بھی صرف چار (۴) رکعتیں دو (۲) صبح دو (۲) شام ، وہ بھی ان سے نہ نبھی۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.