Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سونے کی زکوة میں قیمت خرید کا اعتبار ہے یا قیمت فروخت کا؟

Fatwa no.
906-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے پاس پر انا 10 تولہ سونا ہے ، تو اس کی زکوۃ کس ریٹ کے اعتبار سے ادا کی جائے گی ؟

Answer (beginning)

زکوۃ ادا کرنے میں سونا چاندی ومال تجارت وغیرہ کی اسی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے جو قیمت مالِ نصاب پر قمری سال پورا ہونے کے وقت ہو، لہذا (زکوۃ کی دیگر شرائط کی موجودگی میں ) اس 10 تولہ سونے پر جس دن نصاب کا سال پورا ہو گا، اس دن کے اس سونے کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق زکوۃ فرض ہو جائے گی اور اگر سابقہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنی ہو ، تو پھر جس جس سال کی زکوۃ ادا کرنی ہے، تو اسی سال کے اس دن کی قیمت کا اعتبار ہو گا، جس دن نصاب پر سال پورا ہوا تھا۔ نصاب کا سال پورا ہونے کے دن جو قیمت تھی اگر اس سے زیادہ قیمت لگا کر زکوۃ ادا کر دیں تو یہ بھی ٹھیک ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.