Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سونا اور چاندی کی ایک ساتھ زکاۃ دینے کا طریقہ؟

Fatwa no.
899-WAT

Question

ہو گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی موجود ہوں اور وہ دونوں نصاب برابر نہیں ہیں تو زکاۃ دینے کا کیا طریقہ

Answer (beginning)

بیان کردہ صورت میں اگر دونوں کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو اور زکوۃ واجب ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں تو ان پر زکوۃ لازم ہو گی۔ اور اس صورت میں زکوۃ ادا کرنے کا آسان اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس دن نصاب کا سال مکمل ہو ا ہے اس دن اس سونا اور چاندی کی جتنی مارکیٹ ویلیو بنتی ہے ، اسے جمع کر لیں اور چالیس پر تقسیم کر لیں اور جو جو اب آئے اتنی رقم زکاۃ میں ادا کر دی جائے۔ اور اگر دونوں کی مالیت ملا کر بھی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور قابل زکوۃ مال بھی موجود نہ ہو تو زکوۃ لازم نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.