Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خالہ کے نواسے سے شادی
- Fatwa no.
- 892-WAT
Question
(دعوت اسلامی) کسی لڑکی کی شادی اس کی خالہ کے نواسے سے ہو سکتی ہے؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! لڑکی کی شادی اس کی خالہ کے نواسے سے ہو سکتی ہے، بشر طیکہ وہ اس کی اصل قریب کی نوع نہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور مانع شرعی ( مثلاً، رضاعت اور حرمت مصاہرت) نہ پایا جائے۔ اس لیے کہ جب لڑکی کی شادی، اس کی خالہ کے بیٹے سے ہو سکتی ہے تو خالہ کی بیٹی کے بیٹے سے بدرجہ اولی ہو سکے گی۔ اصل قاعدہ یہ ہے کہ اصل بعید کی فرع بعید حلال ہوتی ہے، صورت مسئولہ میں خالہ کا نواسہ ، یہ اصل بعید یعنی نانا کی فرع بعید ہے لہذا اس کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے " اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.