Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین وآسمان چھ دن میں بنانے کی حکمت
- Fatwa no.
- 891-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اللہ پاک کسی چیز کو حکم دے تو فورا ہو جاتی ہے تو اس کی کیا تفسیر ہے کہ اللہ پاک نے زمین و آسمان چھ دن میں بنائے؟
Answer (beginning)
مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہ العالیہ چھ دن میں زمین و آسمان بنانے کے حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالی قادر تھا کہ ایک لمحہ میں یا اس سے کم میں زمین و آسمان پیدا فرمادیتا لیکن اتنے عرصے میں اُن کی پیدائش فرمانا بہ تقاضائے حکمت ہے اور اس میں بندوں کے لئے تعلیم ہے کہ بندے بھی اپنے کام میں جلدی نہ کیا کریں بلکہ آہستگی سے کریں۔ اگر آسمان و زمین ایک لمحے میں پیدا ہوتے تو کسی کو شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے لیکن جب ان کی تخلیق ایک مخصوص مدت اور مخصوص طریقہ کار سے ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس کو کسی اور نے وجود بخشا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.