Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مدینے کی مٹی کو گھر لے کر جا سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 885-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مدینے کی مٹی کو گھر لے کر جاسکتے ہیں ، ہمارے ایک عزیز نے ہمیں مدینہ طیبہ کی مبارک مٹی لا کر دی ہے، ہم میں سے جب کوئی بیمار ہو تا ہے یا کوئی پریشانی آتی ہے تو ہم اس مٹی کو کھالیتے ہیں تو ہماری پریشانی دور ہو جاتی ہے ؟
Answer (beginning)
تبرک کی نیت سے مدینے شریف کی مٹی لانے اور اسے گھر میں رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے البتہ ! بہتر یہ ہے کہ مدینہ شریف کی مٹی وغیرہ کو مدینہ شریف سے جدا نہ کیا جائے۔ امیر اہلسنت دامت بر کا تہم العالیہ اس طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جواب : "بطور تبرک ”خاک مدینہ وطن میں لانا جائز ہے مگر مشورہ عرض ہے کہ نہ لائی جائے۔ خاتم المحدثین حضرت سید ناشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمتہ اللہ القوی فرماتے ہیں: اکثر علما کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ زادها الله شرفا و تعظیما کی خاک، اینٹ، ٹھیکری اور پتھر نہ اٹھائے۔ علمائے حنفیہ اور بعض شافعیہ رحمھم اللہ تعالی جائز بھی کہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.