Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کارات کوصلوۃ التسبیح میں آہستہ قراء ت کرنا
- Fatwa no.
- 882-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک امام صاحب اس رمضان میں مسئلہ معلوم نہ ہونے کے باعث طاق راتوں میں رات میں صلوۃ التسبیح بغیر جہر کے پڑھاتے رہے ، ان نمازوں کا اعادہ واجب ہو گا ؟ اور اعادہ کا طریقہ کیا ہو گا؟
Answer (beginning)
یادر ہے کہ رات کے نوافل اگر جماعت سے ادا کیے جائیں تو امام صاحب پر ہر رکعت میں جہر (بلند آواز) سے قراءت کرنا واجب ہوتا ہے، اگر جان بوجھ کر آہستہ آواز میں قراءت کرے تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے اور پوچھی گئی صورت میں بھی امام صاحب قصدا آہستہ آواز میں قراءت کرتے رہے لہذا امام و مقتدی سبھی پر ان سارے نوافل کا اعادہ یعنی انہیں دوبارہ پڑھنا واجب ہے ، جن میں امام صاحب نے رات کے وقت آہستہ قراءت کی لیکن اس کے لیے انہیں دوبارہ صلوۃ التسبیح کی طرح تسبیحات کے ساتھ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ 4،4رکعات واجب الاعادہ کی نیت سے عام نوافل کی طرح پڑھ لیں تو بھی درست ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.