Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض ختم ہونے کے بعد غسل سے پہلے روزہ رکھنا؟
- Fatwa no.
- 878-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عورت کا حیض صبح فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گیا، لیکن اس نے ابھی غسل نہیں کیا اور روزہ رکھ لیا اور پھر روزہ رکھنے کے بعد اس نے غسل کیا، تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں روزہ درست ہو جائے گا، اس لیے کہ حکم شرعی یہ ہے کہ اگر حیض و نفاس والی عورت صبح صادق سے پہلے پاک ہو جائے اور وہ غسل کئے بغیر سحری کر کے روزور کھلے ، تو اس کا روزہ درست ہو جاتا ہے ، بلکہ فرض روزہ ہو، تو اسے روزہ رکھنا ضروری ہو گا، جبکہ روزہ معاف ہونے کا کوئی عذر نہ ہو۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ روزے کی حالت میں فرض غسل بھی ہو جاتا ہے، لہذا روزہ رکھنے کے بعد غسل کر سکتے ہیں البتہ روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت غرغرہ نہ کرے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اگر صبح صادق سے پہلے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.