Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ازیان،فرزان،ارزان اور ذہان نام رکھنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 873-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی ہے، ہم مندرجہ ذیل ناموں میں سے کوئی نام رکھنا چاہتے ہیں ”ازیان، فرزان، ارزان، ذہان “تو کیا یہ نام ٹھیک ہیں اور ان میں سے کو نسا نام رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
مسلمان کو چاہیے کہ اپنی اولاد کا نام، انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور اولیاء و صالحین رحمتہ اللہ علیہم کے ناموں پر رکھے کہ سب سے پہلے انسان اپنی اولاد کو جو تحفہ دیتا ہے ، وہ نام ہی کا تحفہ ہوتا ہے اور احادیث میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وصالحین علیہم الرحمہ کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب بھی ہے ، سوال میں بیان کیے گئے ناموں میں معنوی اعتبار سے کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے: (1) از یان: لفظ زین کی جمع ہے اور زمین کا معنی ہے: ” زینت ، آراستگی“۔ (2) ذہان: اس کا معنی ہے : ”بہت سمجھدار “۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.