Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا حیض و نفاس میں کسی عورت کی میت کو غسل دینا

Fatwa no.
869-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی عورت کا حیض و نفاس کی حالت میں ، دوسری کسی عورت کی میت کو غسل دینا جائز ہے ؟

Answer (beginning)

میت کو غسل دینے والے کے لیے با طہارت ہونا چاہیے، حیض و نفاس والی اگر کسی عورت کی میت کو غسل دے تو اس کے غسل دینے سے غسل تو ہو جائے گا لیکن مکروہ ہے ، لہذا جب تک دوسری کوئی پاک عورت میسر ہو تو اسی سے غسل دلوایا جائے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " وينبغي أن يكون غاسل الميت على الطهارة كذافي فتاوى قاضي خان، ولو كان الغاسل جنبا أو حائضا أو كافرا جاز ويكره، كذا في معراج الدراية. " ترجمه : میت کو غسل دینے والے کے لیے با طہارت ہونا چاہیے جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے اور اگر غسل دینے والا جنبی یا حائضہ یا کافر ہوا تو غسل ہو جائے گا لیکن مکروہ ہے، اسی طرح معراج الدرایہ میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.