Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھٹی کرنے پرفائن لینا
- Fatwa no.
- 859-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض مدرسوں میں بچے چھٹی کرتے ہیں، تو ان سے فائن یعنی مالی جرمانہ لیا جاتا ہے ، کیا یہ درست ہے ؟
Answer (beginning)
مالی جرمانہ کے ساتھ سزا دینا جائز نہیں کیونکہ یہ تعزیر بالمال ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام اور باطل طریقے سے مال کھانا ہے، لہذا امدرسہ کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اگر بچے چھٹی کرتے ہیں، تو ان کے والدین، سرپرست وغیرہ سے رابطہ کریں یا کوئی اور جائز طریقہ اختیار کریں، طلبہ کے چھٹی کرنے پر ان سے فائن یعنی مالی جرمانہ لینے کی ہرگز اجازت نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے "تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ در مختار میں ہے: "لا باخذ مال فی المذهب ۔ بحر ۔ " ( مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.