Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جسم سے بہنے والاخون پینا

Fatwa no.
853-WAT
Issued
28 شوال المکرم 1443ھ / 30 مئی 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کٹ لگنے کی وجہ سے خون بہنا شروع ہو جائے، تو اسے پینا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

اگر کٹ لگنے یا کسی اور وجہ سے خون بہا، تو اس کو پی لینانا جائز و حرام ہے، اس لیے کہ بہنے کی مقدار جو خون نکلتا ہے، وہ ناپاک ہے اور اسے پینا حرام ہے۔ نیز اس میں انسانی جزء سے بلا وجہ شرعی انتفاع بھی ہے اور یہ بھی ناجائز ہے اور اگر بننے کی مقدار نہ ہو تو وہ اگر چہ ناپاک نہیں لیکن پینا اس کا بھی جائز نہیں ہے۔ ردالمختار میں ہے " (قوله وهي نجسة نجاسة مغلظة) لأن الله تعالى سماهار جسا فكانت كالبول والدم المسفوح أتقاني " ترجمہ: شراب نجاست مغلظہ ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے ناپاک فرمایا ہے پس یہ پیشاب اور بہتے خون کی طرح ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.