Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حورالعین نام رکھنا کیسا؟ - حورالعین نام کا مطلب

Issued
26 شوال المکرم 1443ھ / 28 مئی 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بیٹی کا نام حور العین رکھا جاسکتا ہے؟

Answer (beginning)

حور العین نام رکھنا درست ہے کہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ حور جمع کا صیغہ ہے اور اس کی واحد حوراء ہے یعنی ایک جنتی عورت کو حوراء کہا جاتا ہے اور زیادہ جنتی عورتوں کے لئے حور استعمال ہوتا ہے اور اردو لغت میں لفظ حور بطور واحد بھی استعمال ہوتا ہے اور اس اعتبار سے حور العین کا مطلب بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورت بنتا ہے، لہذا سیہ نام رکھ سکتے ہیں۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.