Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جنبی فوت ہو تواسے کلی کرانااورناک میں پانی چڑھاناہوگایانہیں؟
- Fatwa no.
- 846-WAT
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص مر جائے اور اس پر غسل فرض ہو چکا تھا تو کیا غسل میت میں اس کے منہ اور ناک میں پانی بھرنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
میت خواه جنبی یا حیض و نفاس والی ہو یا پاک بہر صورت اسے غسل دیتے وقت اس کے ناک یامنہ میں پانی ڈالنا ضروری نہیں بلکہ باریک کپڑا یا روئی بھگو کر اسے میت کے دانتوں، ہونٹوں، تالو اور مسوڑھوں پر پھیر دیا جائے اور اسی طرح ناک کے نتھنوں میں بھی پھیر دیا جائے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " ولا يمضمض ولا يستنشق، كذافي فتاوى قاضي خان، ومن العلماء من قال يجعل الغاسل على أصبعه خرقة رقيقة ويدخل الأصبع في فمه ويمسح بها أسنانه وشفتيه ولهاته ولثته وينقيها ويدخل في منخريه أيضا، كذافي الظهيرية ترجمہ : میت کو نہ کلی کرائی جائے گی اور نہ ہی اس کے ناک میں پانی چڑھایا جائے گا جیسا کہ فتاوی قاضی خان میں ہے، اور بعض علماء نے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.