Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوستونوں کے درمیان صف بنانابھی قطع صف ہے

Fatwa no.
842-WAT
Issued
24 شوال المکرم 1443ھ / 26 مئی 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر دوستونوں کے درمیان صف بنائی جائے، اور ستونوں کے درمیان جتنی جگہ ہے ، صرف اس میں لوگ کھڑے ہوں، ستونوں کی دوسری جانب لوگ کھڑے نہ ہوں، تو کیا یہ بھی قطع صف ہے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں یہ بھی قطع صف ہے، جس کی تحقیق انیق سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ جلد 6 میں فرمائی ۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ” عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلاة الى الراحلة سيد ناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: "لا تصفوابين الاساطين واتموا الصفوف “۔ ستونوں کے بیچ میں صف نہ باند ھو اور صفیں پوری کرو۔ اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر تینوں دروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایک صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے اور اگر بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے کہ صف نا قص چھوڑ دی، کاٹ دی پوری نہ کی ، اور اس کا پورا کر نالازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.