Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزہ داربھولے سے جماع کرلے توروزہ کاحکم

Fatwa no.
840-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے میں بھول سے کھانے پینے سے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بھول سے جماع کرلے تو روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں اور اگر ٹوٹ جائے گا تو کیا کفارہ لازم ہو گا یا صرف قضا؟

Answer (beginning)

روزے کے دوران بھول کر کھانے پینے کی طرح بھولے سے جماع کر لیا تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ در مختار میں ہے ”(اذا اكل الصائم او شرب او جامع) حال كونه (ناسیا۔۔۔۔۔لم یفطر) ترجمہ: روزہ دار نے بھول کر کھایا، پیایا جماع کیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (درمختار، کتاب الصوم،ج3،ص428،419،دارالمعرفة، بيروت) بہار شریعت میں ہے " صبح سے پہلے یا بھول کر جماع میں مشغول تھا، صبح ہوتے ہی یا یاد آنے پر فوراً جد اہو گیا تو کچھ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.