Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مرد اور عورت کی نماز میں فرق کی تفصیل ،دلائل اور طریقہ

Fatwa no.
1445-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا مردو عورت کی نماز میں فرق ہے ؟ دلائل کے ساتھ جواب دیجئے۔

Answer (beginning)

مرد اور عورت کی نماز میں ادائیگی کے طریقہ کے حوالے سے کئی چیزوں میں فرق ہے مثلا عورت تکبیر میں ہاتھ کندھوں تک اٹھائے گی اور مر دکانوں تک اٹھائے گا، عورت قیام میں ہاتھ سینے پر باندھے گی اور مرد ناف کے نیچے باندھے گا، عورت رکوع میں زیادہ نہیں جھکے گی اور نہ ہی گھٹنوں پر زور دے گی جبکہ مرد خوب جھکے گا اور گھٹنوں پر زور دے گا، عورت سجدے میں زمین سے چمٹ جائے گی جبکہ مرد کی پنڈلیاں زمین سے ، را نیں پیٹ سے ، اور کہنیاں زمین اور رانوں سے جدار ہیں گی ، عورت قعدہ میں تو رک کرے گی یعنی اپنے دونوں پاؤں کو اپنے دائیں طرف باہر نکالے گی جبکہ مرد بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے گا اور دایاں پاؤں کھڑارکھے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.