Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضومیں پانی گلے میں یادماغ میں جانے سے روزے کاحکم

Fatwa no.
837-WAT
Issued
23 شوال المکرم 1443ھ / 25 مئی 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ حالت روزہ میں غرغرہ اور ناک میں پانی نہیں چڑھانا چاہئے جس کی وجہ سے وہ دو سال تک غرغرہ کرتارہا اور ناک میں پانی چڑھا تارہا، غرغرے کے دوران کبھی کبھار پانی حلق سے نیچے بھی اتر جاتا تھا بعد میں اسے مسئلہ معلوم ہوا تو اب کیا اسے روزے کی صرف قضار لکھنی ہو گی یا کفارہ بھی ادا کرنا ہو گا؟

Answer (beginning)

جن جن روزوں میں غر غرے کے دوران غلطی سے حلق سے پانی اتر ا ہے یا ناک میں پانی ڈالنے کے دوران دماغ تک پانی چڑھا ہے ان سب روزوں کی قضا فرض ہے کفارہ لازم نہیں۔ اور جن روزوں میں غرغرے کے دوران حلق سے پانی نہیں اترانہ ہی ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے دماغ کی طرف پانی چڑھاوہ صحیح ہو گئے ان کی قضالازم نہیں۔ کہ فی نفسہ غرغرہ اور استنشاق میں مبالغہ ناقض صوم نہیں۔ ہاں اگر غرغرہ کرتے ہوئے قصد احلق سے نیچے کیا تو کفارہ بھی لازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.